Home / Pakistan / تحریکِ انصاف 114 نشستوں کے ساتھ آگے، انتخابی عمل کی شفافیت پر اعتراضات

تحریکِ انصاف 114 نشستوں کے ساتھ آگے، انتخابی عمل کی شفافیت پر اعتراضات

ووٹنگ ختم ہونے کے 18 گھنٹے بعد تک اب تک بیشتر نشستوں کے مکمل نتائج موصول نہیں ہوئے ہیں جس کے باعث کئی سیاسی جماعتوں نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھائے ہیں۔پولنگ ختم ہوئے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود اب تک بیشتر حلقوں کے نتائج کا اعلان نہیں ہوا ہے۔                                  پاکستان میں بدھ کو ہونے والے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق اب تک تحریکِ انصاف کو 114 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ووٹنگ ختم ہونے کے 18 گھنٹے بعد تک اب تک بیشتر نشستوں کے مکمل نتائج موصول نہیں ہوئے ہیں جس کے باعث کئی سیاسی جماعتوں نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھائے ہیں۔اب تک سامنے آنے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) 60 سے زائد نشستوں پر برتری کے ساتھ قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت بن گئی ہے۔پیپلز پارٹی 39 نشستوں کے ساتھ تیسرے اور متحدہ مجلس عمل 10 نشستوں پر برتری کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ آزاد امیدواروں کو 16 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔جمعرات کی صبح تک موصولہ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی، خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف اور بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو باقی جماعتوں پر برتری حاصل ہے۔

پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی کل تعداد 297 ہے جن میں سے بدھ کو 295 نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے۔اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو 132، تحریکِ انصاف کو 123، پی پی پی کو 6 اور آزاد امیدواروں کو 25 سے زائد نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

سندھ اسمبلی کی مجموعی نشستیں 130 ہیں تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک امیدوار میر شبیر بجارانی کے بلامقابلہ منتخب ہونے کے سبب 129 نشستوں پر پولنگ ہوئی تھی۔یہاں جمعرات کی صبح تک پیپلزپارٹی کو 73، تحریکِ انصاف کو 22، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو 18 اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کو 12 سے زائد نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی بدھ کو 97 نشستوں پر پولنگ ہوئی تھی۔ اب تک کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق صوبے میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو 65 سے زائد، متحدہ مجلس عمل کو 5، اے این پی کو 8، مسلم لیگ (ن) کو 3 سے زائد نشستوں پر آزاد امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔

بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی 51 میں سے 50 نشستوں پر بدھ کو پولنگ ہوئی تھے۔ صوبے سے موصولہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کو اب تک 14سے زائد، ایم ایم اے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کو 8، 8 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

پاکستان کے گیارہویں عام انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ سست روی کا شکار ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پہلا نتیجہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب چار بجے سنایا گیا۔جمعرات کی صبح تک جتنے بھی غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج سامنے آسکے تھے ان کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کو باقی تمام جماعتوں پر برتری حاصل ہے۔ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ نشستیں لینے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی تیسرے نمبر پر ہے۔کراچی کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کی 21 نشستوں میں سے 12 پر تحریکِ انصاف کو سبقت حاصل ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کو 6 اور پیپلز پارٹی کو 3 نشستوں پر برتری ہے۔ پاک سر زمین پارٹی کو جمعرات کی صبح تک ایک نشست پر بھی برتری نہیں مل سکی ہے۔کراچی کی جن شخصیات نے اپنے سیاسی حریفوں پر سبقت لی ان میں پاکستان تحریکِ انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی اور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین شامل ہیں۔عارف علوی قومی اسمبلی کے حلقہ 247 کراچی ساؤتھ 2 اور عامر لیاقت حسین این اے 245 کراچی ایسٹ 4 سے پی ٹی آئی کے امیدوار تھے۔ ان دونوں حلقوں سے ان کے مخالف امیدوار ایک ہی تھے۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار جو آخری اطلاعات تک دونوں حلقوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

شاہد خاقان عباسی دونوں نشتوں پر پی ٹی آئی سے پیچھے’سابق وزیر اعظم شاہد حاقان عباسی اپنے آبائی حلقے این اے 57 روال پنڈی 1 میں پی ٹی آئی کے امیدوار سے کافی پیچھے ہیں ۔ اسی طرح اسلام آباد کے حلقے میں عمران خان کے 52160ووٹوں کے مقابلے میں ان کے ووٹ 23220ووٹ ہیں۔این اے 131 لاهور9 کے حلقے میں اب تک کی گنتی کے مطابق عمران خان نے 57834 ووٹ حاصل کیے ہیں جب کہ خواجہ سعد رفیق کے 43632 ووٹوں کے ساتھ ان سے پیچھے ہیں۔ ابھی تک اس یہاں کے تقریباً 50 فی صد ووٹوں کی گنتی ہوئی ہے۔ ​پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف سوات سے پی ٹی آئی کے اُمیدوار سے ہار گئے ہیں۔ اس حلقے سے پی ٹی آئی کے سلیم الرحمٰن نے 68162 ووٹ حاصل کئے جبکہ شہباز شریف 22756 ووٹ حاصل کر پائے۔ یوں شہباز شریف بڑے مارجن سے یہ سیٹ ہار گئے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثناءاللہ پی پی 113 فیصل آباد سے پی ٹی آئی کے وارث عزیز سے شکست کھا گئے۔ پی ٹی آئی کے وارث عزیز نے 61041 اور رانا ثناءاللہ نے 56054 ووٹ حاصل کئے۔42 فیصد حلقوں سے موصول ہونے والے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی 114 سیٹوں کے ساتھ آگے ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون کو 64 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے اور پی پی پی پی 45 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نون 129 سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر، پی ٹی آئی 122 سیٹوں کے ساتھ دوسرے اور پاکستان پیپلز پارٹی 6 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ 31 آزاد اُمیدوار بھی کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

سندھ اسمبلی کیلئے پیپلز پارٹی 76 سیٹوں کے ساتھ پہلے، پی ٹی آئی 22 سیٹوں کے ساتھ دوسرے اور ایم کیو ایم پاکستان 18 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی 66 سیٹوں کے ساتھ بہت زیادہ سبقت لیے ہوئے ہے جبکہ متحدہ مجلس عمل 9 سیٹوں کے ساتھ دوسرے اور عوامی نیشل پارٹی 7 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی کو 13 نشستوں پر سبقت حاصل ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور متحدہ مجلس عمل 8 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

About Mishal

i am organizing here diffirent types of articles.which are belongs to many topics like health,army,beauty,amazing news,videos,and others.i am writing many news types of articles.want to give information to the people.

Check Also

معلق پارلیمان بدقسمتی ہو گی، موجودہ حالات میں طاقتور حکومت کی ضرورت ہے: عمران خان

عمران خان نے کہا کہ کوشش ہو گی کہ پیپلز پارٹی جیسی جماعتوں کی مدد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *