Home / Fashion / Relationships / سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے گرد گھیرا تنگ، پکڑ دھکڑ، ملازمت کے حصول میں مشکلات، حوصلہ شکنی

سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے گرد گھیرا تنگ، پکڑ دھکڑ، ملازمت کے حصول میں مشکلات، حوصلہ شکنی

سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے گرد گھیرا تنگ، پکڑ دھکڑ، ملازمت کے حصول میں مشکلات، حوصلہ شکنی۔ پچھلی کئی دہائیوں سے ایشیائی ملکوں کے لوگ روزگار کے لیے سعودیہ کا رخ کرتے رہے ہیں ۔ لیکن صورت حال تبدیل ہو رہی ہے اور آئے روز غیر ملکیوں پر مختلف ٹیکس لگائے جارہے ہیں تاکہ ان کی سعودی عرب میں کام کرنے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے ۔

اب عرب ممالک نے ایسے ورکرز کیخلاف گھیراتنگ کرنا شروع کیا ہوا ہے اور پکڑدھکڑکے علاوہ کام کا حصول بھی مشکل بنادیا ہے تاکہ غیرقانونی تارکین وطن کی حوصلہ شکنی ہو، اب انکشاف ہوا ہے کہ سعودی عرب میں سب سے زیادہ یعنی تقریباً77فیصد غیرقانونی طورپر مقیم غیرملکیوں کا تعلق یمن سے ہے جبکہ اس کے بعد 22فیصد کا تعلق ایتھوبیا سے ہے۔ 29مارچ سے سعودی حکومت نے غیرقانونی طورپر مقیم غیرملکیوں کو ریاست چھوڑنے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی تھی اور خبردار کیا تھا کہ اگر غرقانونی طورپر مقیم افراد اپنی دستاویزات نہیں بنواتے تو انہیں پندرہ ہزار سے ایک لاکھ ریال تک جرمانہ ہوگا یا پھر انہیں 90دن کے اندر اندر ریاست چھوڑنا ہے ۔

سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے اہلخانہ پر لگنے والے ماہانہ ٹیکس نے ان کیلئے مملکت میں قیام ایسا مشکل بنا دیا ہے۔ سعودی گزٹ کے مطابق سعودی جنرل اتھارٹی فار سٹیسٹکس نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق سال رواں کی دوسری سہ ماہی کے اختتام تک 62 ہزار غیر ملکی سعودی عرب کو چھوڑ کر جا چکے ہیں

سعودی حکومت نے 2030 تک غیر ملکیوں کی تعداد میں نمایاں کمی کر کے ان کی جگہ سعودی شہریوں کو ملازمت دینے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے ۔ اس حکمت عملی کے تحت 2020 تک سعودی شہریوں کی بیروزگاری کی شرح 9 فیصد سے کم جبکہ 2030 تک اسے 7 فیصد تک لایا جائے گا ۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت غیر ملکیوں کے پاس موجود 12 لاکھ سے زائد ملازمتیں 2020 تک سعودی شہریوں کے حوالے کر دی جائیں گی۔

About fatima

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *