Home / Tech / ایٹم بم پھٹنے کے بعد کیسی اور کتنی تباھی پھیلاتا ھے تفصیلات جانئے

ایٹم بم پھٹنے کے بعد کیسی اور کتنی تباھی پھیلاتا ھے تفصیلات جانئے

ایٹم بم سطح زمین سے _50_سے_100_میٹر کی بلندی پر پھٹتا ہے ۔ پہلے ایٹم کے ٹوٹنے کے سیکنڈ کے ھزارویں حصۓ میں ہی سب کے سب ایٹموں کو نیوٹرون توڑ ڈالتے ہیں۔ ایٹموں کے ٹوٹنے سے فوری طورپر 60 ، 70 میٹر بلندی پر انتہائی تیز روشنی کا ایک بہت بڑا گولہ نمودار ھوتا ھے جس کے سامنے سورج کی روشنی سیاہ پڑ جاتی ھے ۔ یہ روشنی اس قدر تیز ھوتی ھے کہ زمین پر چلنے پھرنے والے انسان مرنے اور بھاپ بن کر اڑ جانے سے پہلے اپنی بینائی سے محروم ھوجاتے ہیں۔روشنی کا گولہ انتہائی تیزی سے زمین کی جانب بڑھتا ھے اس وقت اس جگہ کا درجہ حرارت سورج جتنا ھو جاتا ھے جس کی گرمی سے دو کلومیٹر دائرے کے اندر انسان جانور درخت عمارتیں گاڑیاں ایک سیکنڈ میں دھواں بن کر اڑ جاتی ہیں۔ دو کلومیٹر کے دائرے میں تباھی کا یہ حال ھوجاتا ھے جیسے کسی نے بہت بڑے جھاڑو سے زمین مکمل طور پر صاف اور ھموار کر دی ھو۔ بم پھٹنے کے ساتھ ہی ایک ھولناک دھماکہ ھوتا ھے جب کہ دوسرا دھماکہ گولہ زمین سے ٹکرانے کے بعد ھوتا ھے جس کی شدت پہلے دھماکے سے دو سو گنا زیادہ ھوتی ھے۔ پہلا دھماکہ جو فضا میں ھوتا ھے وہ ھوا میں ایک زبردست ارتعاش کی لہر پیدا کرتا ھے ھزاروں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آگ جیسی گرم ھوا آندھی کی شکل میں دھماکے والی جگہ سے پیدا ھوکر چاروں طرف پھیلتی ھے جو اس قدر طاقتور ھوتی ھے کہ ایک بہت بڑے ٹرالے سے بھی ٹکرائے جائے تو اسے توڑ کر ریزہ ریزہ کر دے اس ھوا کے طاقت کے سامنے بڑی بڑی بلڈنگیں جو دھماکے والی جگہ سے تین چار کلومیٹر دور ھوتی ہیں تنکوں کی طرح بکھر جاتی ہیں ۔ ھر طرف ملبہ ھی ملبہ دکھائی دینے لگتا ھے ۔ پہلے دھماکے کے فورا” بعد دوسرا دھماکہ ھوتا ھے جس کی وجہ سے زمین میں زلزلے کی ایک شدید لہر پیدا ھوتی ھے ۔ اس شدید زلزلے کی وجہ سے نو دس کلومیٹر تک موجود عمارتوں کو شدید نقصان پہنچتا ھے۔ انسانوں کے کانوں کے پردے پھٹ جاتے ہیں۔ ایٹموں کے ٹوٹنے سے نہ نظر آنے والی ریڈیائی شعاعوں اور نیوٹرونوں کا ایک سیلاب سا آ جاتا ھے جو ھر جاندار کے جسم کے آراپار ھو جاتی ہیں نیوٹرون خون کے سفید خلیوں کو تباہ کر دیتا ھے۔ دھماکے والی جگہ سے زمین پر پھیل جانے والی گرم ھوا کے علاوہ گرم ھوا کا ایک طوفان ایٹمی ذرات کو لیکر آسمان کی جانب بلند ھو جاتا ھے آسمان پر بادل بن جاتے ہیں اور ایک ایسی بارش اردگرد کے علاقوں پر برسنے لگتی ھے جس میں تابکار ذرات ھوتے ھیں بارش کے وہ قطرے جس پر بھی گرتے ھیں اس کے جسم کو گلا کر رکھ دیتے ھیں۔ ایٹمی دھماکے سے خارج ھونے والی تابکار شعاعیں جس جس انسان کے جسم سے گذرتی ہیں وہ انسان بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ھوجاتا ھے ۔ اگر ان کے ھاں اولاد پیدا بھی ھوتی ھے تو جسمانی طور پر معذور ھوتی ھے۔ جہاں دھماکہ ھوا ھوتا ھے وھاں عرصہ دراز تک انسانی آبادی کا رھنا ناممکن ھوجاتا ھے جبکہ پاکستانی سائنسدانوں نے اپنے کچھ ایٹمی ھتھیاروں کو اس طرح ڈیزائن کیا ھے جن سے نیوٹرونز کا اخراج تو ھوتا ھے لیکن ایسی تابکار شعاعیں خارج نہیں ھوتی جو ایٹمی دھماکے کے بعد اس علاقے کو انسانی آبادی کے رھنے کے قابل نہیں رھنے دیتیں۔ اس کا فائدہ یہ ھوتا ھے کہ اگر اپنے ملک کی سرحدوں میں گھس آنے والے دشمن پر حملہ کرکے ان کو اپنے علاقوں میں ہی تہس نہس کیا جائے تو وہ جگہ ایٹمی دھماکے کے بعد بھی قابل استعمال رھتی ھے۔ پاکستان کے پاس ایسے ایٹم بم ایک نعمت سے کم نہیں جنہیں نصر میزائل پر نصب کیا گیا ھے یہ چھوٹا سا میزائل ساٹھ سے سو میل دور تک مار کرتا ھے یہ خاص طور پر ملکی سرحدوں میں گھس جانے والے دشمنوں کے لئے قیامت سے کم نہیں۔ اس کے نیوٹران بکتربند ٹینکوں کی موٹی فولادی دیواروں میں سے بھی گذر کر ٹینکوں میں چھپے دشمن کے فوجیوں کو سیکنڈوں میں کباب بنا دیتے ہیں۔ دشمن کو فنا کے گھاڑ اتارنے کے بعد اپنے علاقے کو پھر بے خوف و خطر استعمال کیا جا سکتا ھے ۔ انڈیا اس صلاحیت سے محروم ھے اور اسی وجہ سے پاکستان کے ایٹمی میزائلوں کے بارے دنیا کے سامنے دہائی دیتا رھتا ھے ۔ عام طور پر ایٹم بم دشمن کے علاقے میں گرا کر تباھی مچائی جاتی ھے ۔ اس لئے کوئی بھی ملک اپنے ملک میں گھس آنے والے دشمن پر ایٹمی حملے کا رسک نہیں لے سکتا۔ لیکن پاکستان بلاخوف و خطر کر سکتا ھے ۔ یہ تو آپ کو علم ھوگیا ھے کہ ایٹم بم کی تباہ کاری ایک دائرے کی شکل میں ھوتی ھے۔ جتنا زیادہ طاقتور بم ھو گا تباھی کا دائرہ بھی اتنا ھی وسیع ھوتا چلا جائے گا۔ اب ذرا پاکستان کے نقشے کو دیکھئیے یہ ایک پٹی کی شکل میں ھے اگر انڈیا پاکستان پر ایٹمی حملہ کرتا ھے تو ایٹمی تباھی کا پھیلتا ھوا گول دائرہ پاکستان کے ساتھ ساتھ خود انڈیا کے بھی شہروں کو متاثر کرے گا بلکہ پاکستان سے مغرب کی جانب واقع ممالک کو بھی ھٹ کرے گا۔ کیونکہ ایٹمی تابکاری کسی سرحد کو نہیں پہنچانتی ۔ نہ ہی کوئی تدبیر اسے اپنے سرحدوں میں داخل ھونے سے روک سکتی ھے۔ اب اگر انڈیا خود کو اور پاکستان کے دوسرے بہت سے ھمسائیوں کو بچاتے ھوئے ایٹمی حملہ کرتا ھے تو لامحالہ اسے بہت کم طاقت اور محدود علاقے میں تباھی پھیلانے کے لئے بہت سے ایٹم بموٓں کی ضرورت پڑے گی ۔ جبکہ پہلا بم پھٹتے ھی پاکستان الرٹ ھو جائے گا اور جوابی کارروائی کر سکتا ھے۔ دوسری جانب پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کا نقشہ دیکھئیے وہ بالکل گولائی کی شکل میں ھے جو خود کو اور ھمسایوں کوبچاتے ھوئے تباھی پھیلانے کے لئے نہایت ھی موزوں ھدف ھے ۔ ایک ہی طاقتور ایٹم بم انڈیا کے سنٹر میں گرایا جائے اور۔۔۔۔ #_رام_رام_ستے ۔۔۔ پاکستان کے پاس ایک اور بھی صلاحیت ھے جو انڈیا کے پاس نہیں ھے ۔ ماھرین کہتے ھیں کہ ایٹم بموں کی تعداد زیادہ ھونا خوبی نہیں بلکہ ایٹم بم کی اپنے ھدف تک تیزی سے پہنچ سب سے زیادہ اھم ھوتی ھے ۔ یعنی ایٹم بم کو میزائل یا جہاز کے ذریعے اس کی محفوظ جگہ سے نشانے تک پہنچانا۔ اس معاملے میں پاکستان انڈیا کے مقابلے میں اور بہت سے دوسرے ممالک میں سرفہرست ھے

About fatima

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *