Breaking News
Home / Uncategorized / پاکستان کا بین البرِ آعظمی مزائل پروگرام، یورپ اور امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی

پاکستان کا بین البرِ آعظمی مزائل پروگرام، یورپ اور امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی

بین البرِاعظمی مزائل (ICBM-Intercontinental Ballistic Missile) ایسے مزائل کو کہتے ہیں جو ایک برِ اعظم سے دوسرے برِ اعظم تک مار کر سکے۔ دوسرے الفاظ میں اِس مزائل کی رینج بہت زیادہ ہوتی ہے اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے یہ دوسرے تمام مزائلوں سے مختلف مزائل ہوتا ہے۔ یہ مزائل کیسےکام کرتا ہے؟
بین البرِ اعظمی مزائل دراصل ٹیکنالوجی کے حوالے سے عام مزائلوں سے مختلف ہوتا ہے اور یہ مزائل خلاء میں سیٹلائٹ بھیجنے والے راکٹ سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس مزائل میں ٹھوس آکسیجن بطور ایندھن استعمال ہوتی ہے۔ اس مزائل کو زیرِ زمین پلیٹ فارم یا پھر مزائل گاڑی (ٹرانسپورٹر اریکٹر لانچر) جیسے پلیٹ فارم سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ اس مزائل کی ٹیکنالوجی انتہائی پیچیدہ ہوتی ہے اور یہ ایک سیٹلائٹ کو لانچ کرنے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔
یہ مزائل عام طور پر تین عدد یکے بعد دیگرے جڑے ہوئے مختلف راکٹ بوسٹرز پر مشتمل ہوتا ہے۔ زمین سے فائر کیے جانے کے بعد یہ مزائل سینکڑوں میل اوپر خلا میں داخل ہو نے سے پہلے اپنا مرکزی بوسٹر الگ کر دیتا ہے اور اپنے دوسرے بوسٹر کی مدد سے خلا کی گہرائیوں میں چلا جاتا ہے۔ مزائل کا دوسرا بُوسٹر اس مزائل کو ہزاروں کلومیٹر دور اپنے ٹارگٹ(دشمن ملک کے اوپر خلاء میں) تک باآسانی پہنچا دیتا ہے اور پھر یہ بھی مزائل سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد مزائل کا تیسرا اور سب سے چھوٹا راکٹ بوسٹر اپنا کام شروع کرتا ہے جو مزائل میں موجود جوہری وارہیڈ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے اور یہ مزائل کے عین اوپر لگے ایک یا ایک سے زیادہ ایٹمی وارہیڈز کو اپنے ٹارگٹ کی جانب سیدھ میں لا کر زمین کی جانب روانہ کر دیتا ہے۔
وارہیڈ جب زمین کی جانب روانہ ہوتا ہے تو اس کی رفتار مسلسل تیز سے تیز تر ہوتی رہتی ہے اور زمین کے قرہ ہوائی میں پہنچنے تک اس کی رفتار ناقابلِ یقین حد تک تیز ہو جاتی ہے جو کہ ہزاروں میل فی گھنٹہ تک ہوتی ہے۔ ہزاروں کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار اور ہوا کی فرکشن کی وجہ سے وارہیڈ بے حد گرم ہو جاتا ہے بری طرح جلنے لگتا ہے۔ زمین پر کھڑے ہو کر اگر دور سے اس وارہیڈ کو زمین کی طرف آتے دیکھا جائے تو روشنی کی ایک لمبی لکیر زمین کی جانب تیزی سے آتی دکھائی دے گی جو پلک جھپکتے ہی زمین پر پہنچ جاتی ہے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے چند منٹوں میں کئی شہر صفہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ بین البرِ اعظمی مزائل کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس کا وارہیڈ جب زمین جانب روانہ ہوتا ہے تو اس کی ناقابلِ یقین حد تک تیز رفتاری کی وجہ سے اس کو کوئی بھی دفاعی نظام اسے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، تیز رفتاری کی یہ خاصیت زمین سے زمین پر مار کرنے والے دوسرے مزائلوں میں نہیں ہوتی اور انہیں کوئی بھی اینٹی مزائل سسٹم باآسانی مار گرا سکتا ہے۔پاکستان کے حوالے سے بین البرِآعظمی مزائل کی اہمیت:
گزشتہ سال کراچی میں ہونے والی فوجی نمائش کے موقع پر کچھ آفیشل لوگوں نے میڈیا پر اس بات کی تصدیق کر دی کہ پاکستان نے تیمور نامی بین البرِ اعظمی مزائل تیار کر لیا ہے اور اس مزائل کی رینج ممکنہ طور پر 7000 کلومیٹر تک ہو سکتی ہے۔ اس مزائل کا باقاعدہ تجربہ کرنا ابھی باقی ہےاور اس سے پہلے پاکستان کو اپنا ایک خاص سیٹلائٹ خلا میں بھیجنا ہے جس کی مدد سے اس مزائل کو اپنے ٹارگٹ تک کامیابی سے پہنچانے میں مدد ملے گی۔ واضح رہے کہ 2015ء میں اس سیٹلائٹ پر تیزی سے کام شروع کر دیا گیا تھا اور سلسلے میں 2015-2016 کے بجٹ میں 7 ملین ڈالر کی خطیر رقم مختص کی گئی جبکہ 2018 میں سیٹلائٹ لانچ کرنے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔کیا یہ مزائل پاکستان نے بھارت کو نشانہ بنانے کے لئے تیار کیا ہے؟نہیں! ہمارے پاس ایسے کئی مزائل موجود ہیں جو بھارت کے کونے کونے تک کامیابی کے ساتھ نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں لیکن بین البرِاعظمی مزائل کو خاص طور پر امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کو نشانہ بنانے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ پاک فوج کا یہ اقدام اُن منافقین کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے جو ابھی بھی پاک فوج اور پاکستان کو امریکہ کا غلام کہتے ہیں۔ اس مزائل کی کامیابی کے بعد پاکستان دُنیا میں صفِ اوّل کی اقوام میں شامل ہو جائے گا اور اس کے دفاع میں ایک بہترین اور نیا باب رقم ہوگا۔ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک پاکستان کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت بھی نہیں کریں گے۔ چونکہ بین البرِ اعظمی مزائل کی رینج بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس مزائل کو پڑوسی ملک، بھارت کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کو تباہ و برباد کرنے کے لئے پاکستان کے پاس اور کئی مزائل موجود ہیں جو بھارت کے کونے کونے کو سو فیصد کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا سکتے ہیں۔ تیمور مزائل پاکستان کے ابابیل مزائل کی طرح ممکنہ طور پر ایک سے MIRV یعنی ایک سے زیادہ وارہیڈ پر مشتمل ہوگا جسے مار گرانا دنیا کے بہترین ائیر ڈیفنس سسٹمز کے لئے اور بھی زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہو جائے گ

About fatima

Check Also

میں ہمیشہ حیران ہوتا کہ پاکستان اتنا چھوٹا سا ملک ہے مگر پھر بھی بڑی بڑی سپر پاورز کو تڑیاں لگاتا ہے ، جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ آئی ایس آئی امریکہ میں ۔۔۔ ! بھارتی جرنیل کے چونکا دینے والے انکشاف

بھارتی فوج کے ایک سابق جرنیل نے کہا ہے کہ پاکستا ن نے پینٹاگون میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *