Home / Uncategorized / ہایڈروجن بمب اور گریویٹی نیوکلئیر بمب کس قسم کے بمب ہیں اور ان کا ایٹم بمب سے کیا فرق ہے ؟

ہایڈروجن بمب اور گریویٹی نیوکلئیر بمب کس قسم کے بمب ہیں اور ان کا ایٹم بمب سے کیا فرق ہے ؟

ہایڈروجن بمب اور گریویٹی نیوکلئیر بمب کس قسم کے بمب ہیں اور ان کا ایٹم بمب سے کیا فرق ہے ؟
ایٹم بمب بنانے کے چند سال بعد امریکا نے مزید ہائیڈروجن بمب کا کامیاب تجربہ کیا۔
ہائیڈروجن بمب کو بعد میں تھرمونیوکلئیر بمب کا نام دے دیا گیا۔ یہ بمب انتہائ زیادہ انرجی پیدا کرنے کے لیے فیوژن کے عمل کا سہارا لیتا ہے یاد رہے سورج سے زمین پر پہنچنے والی انرجی بھی فیوژن ری ایکشن کا نتیجہ ہے۔ ۔


دوسری طرف ایٹم بمب میں انرجی فشن چین ری ایکشن سے پیدا ہوتی ہے۔
سادہ الفاظ میں تھرمونیوکلئیر بمب ایٹم بمب کی انتہائ مہلک قسم ہے جس کو عام طور پر بین البرعظمی بلاسٹک میزائیل(ICBM) سے فائر کیا جاتا ہے اور یہ ٹیکنالوجی صرف چند ممالک کے پاس موجود ہے۔لیکن ہائیڈروجن بمب کی ایک قسم ایسی بھی ہے جس کو عام جنگی جہاز سے فری فال طریقے سے گرایا جا سکتا ہے اسے گریویٹی نیوکلئیر بمب کا نام دیا گیا ہے۔امریکی دوسرے الفاظ میں اسے B-61 نیوکلیئر بمب کے نام سے جانتے ہیں۔اسے بلاسٹک میزائیل کی نسبت کسی بھی جہاز سے گرایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ان-گائیڈڈ بمب کی طرح ٹارگٹ کو نشانہ بناتا ہےبلاسٹک میزائیل کی نسبت گریویٹی بمب کی کامیابی کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خاں 1984 میں ہی ہایڈروجن بمب بنا لینے کا دعوہ کر چکے ہیں۔ان کا بیان آج بھی موجود ہے کہ “اگر حکومت پاکستان اجازت دے تو ہم ہایڈروجن بمب کا تجربہ کر سکتے ہیں”دنیا میں صرف تین سے چار ممالک کے پاس ہایڈروجن بمب موجود ہیں جن میں امریکا روس چین اور فرانس شامل ہے جبکہ چند ماہ قبل شمالی کوریا بھی ہائیڈروجن بمب کے کامیاب تجربے کا دعوہ کر چکا ہے۔یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر ایک ہائیڈروجن بمب بحر اوقیانوس میں پھٹ جائے تو سمندر کی ساری آبی مخلوق ماری جائے گی۔پاکستان کی دفاعی ضرورت کے حساب سے پاکستان کے پاس وسیع پیمانے پر ایٹم بمب موجود ہیں جو کہ ہر میدان عمل میں پورا اترنے کے لیے تیار ہیں

About fatima

Check Also

پاکستان کے ٹاپ فائیو ناقابل شکست ہتھیار

پاکستان کے ٹاپ فائیو ناقابل شکست ہتھیار راعد کروز سٹیلتھ نیوکلئیر میزائل: یہ میزائیل 400 …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *