Home / Pakistan / پاکستان نے دنیا کا سب سے چھوٹا ایٹمی ہتھیار تیار کر کے ایٹمی میدان میں دُنیا کی سپر پاورز کو مات دے دی”

پاکستان نے دنیا کا سب سے چھوٹا ایٹمی ہتھیار تیار کر کے ایٹمی میدان میں دُنیا کی سپر پاورز کو مات دے دی”

ایٹم بم کی تیاری مختلف مراحل میں ہوتی ہے اور اُن تمام مراحل کو عبور کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ دُنیا چند ہی ممالک ہیں جو اس مشکل ترین کام کو سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں پاکستان سرِ فہرست ہے۔ایٹم بم یورینیم اور پلوٹونیم جیسے تابکاری مواد سے بنتے ہیں جن کو دھماکہ خیز بنانے کے لئے افزودہ کیا جاتا ہے۔ افزودگی کا یہ عمل دُنیا کی تمام تر ٹیکنالوجیز میں سب سے منفرد اور مشکل ترین کام ہے اور یہ مشکل ترین کام اپنی مثال آپ ہے۔ایٹم بم کے لئے ایک مخصوص مقدار میں یورینیم چاہئے ہوتا ہے (اس مقدار کو کریٹیکل لِمٹ کہتے ہیں) تاکہ اس میں دھماکہ کرنے کا عمل شروع ہو سکےاس مخصوص مقدار سے کم یورینم ہونے پر اس میں دھماکہ کرنے کا عمل ہرگز شروع نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایٹم بم سائز میں ہمیشہ کافی بڑے ہوتے ہیں اور ان کو داغنے کے لئے طاقت ور اور جدید مزائل استعمال کیے جاتے ہیں یا پھر انہیں بہت بڑے اور مخصوص قسم کے فوجی طیاروں کی مدد سے گرایا جا سکتا ہے۔ روس اور امریکہ سمیت دُنیا کے تمام ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود کریٹیکل لمٹ سے کم مقدار میں ایٹم بنانے میں آج تک ناکام رہے ہیں۔2009 میں پرویز مشرف نے امریکی عہدیداروں کے اجلاس میں شرکت کے وقت انکشاف کیا کہ پاکستان کریٹیکل لمٹ سے کم مقدار میں تابکاری مواد کو استعمال کرتے ہوئے ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ پرویز مشرف کے اس بیان نے اجلاس میں موجود عہدیداروں کے نہ صرف پسینے چھڑا دئیے بلکہ امریکیوں کو بہت سخت حیرت اور پریشانی سے دوچار کر دیا۔ ماہرین کے مطابق پرویز مشرف کا امریکیوں کے سامنے یہ انکشاف دشمن کو پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے ہزاروں بار سوچنے پر مجبور کرے گا۔اسکا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان نے دُنیا کا سب سے چھوٹا اور ایسا خطرناک ترین ہتھیار بنا لیا ہے جسے باآسانی دُنیا کے کسی بھی ملک میں نہ صرف باآسانی پہنچایا جا سکتا ہے بلکہ دشمن کو غیر معمولی اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ مغربی ممالک جیمز بانڈ کی فلموں میں ایسے ہتھیار فرضی طور پر دکھا تو چکے ہیں لیکن پاکستان کے علاوہ دُنیا کے کا کوئی بھی ملک اس سائنس فکشن کو حقیقت میں تبدیل نہیں کر سکا۔
ایٹم بم کی تیاری مختلف مراحل میں ہوتی ہے اور اُن تمام مراحل کو عبور کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ دُنیا چند ہی ممالک ہیں جو اس مشکل ترین کام کو سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں پاکستان سرِ فہرست ہے۔ایٹم بم یورینیم اور پلوٹونیم جیسے تابکاری مواد سے بنتے ہیں جن کو دھماکہ خیز بنانے کے لئے افزودہ کیا جاتا ہے۔ افزودگی کا یہ عمل دُنیا کی تمام تر ٹیکنالوجیز میں سب سے منفرد اور مشکل ترین کام ہے اور یہ مشکل ترین کام اپنی مثال آپ ہے۔ایٹم بم کے لئے ایک مخصوص مقدار میں یورینیم چاہئے ہوتا ہے (اس مقدار کو کریٹیکل لِمٹ کہتے ہیں) تاکہ اس میں دھماکہ کرنے کا عمل شروع ہو سکےاس مخصوص مقدار سے کم یورینم ہونے پر اس میں دھماکہ کرنے کا عمل ہرگز شروع نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایٹم بم سائز میں ہمیشہ کافی بڑے ہوتے ہیں اور ان کو داغنے کے لئے طاقت ور اور جدید مزائل استعمال کیے جاتے ہیں یا پھر انہیں بہت بڑے اور مخصوص قسم کے فوجی طیاروں کی مدد سے گرایا جا سکتا ہے۔ روس اور امریکہ سمیت دُنیا کے تمام ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود کریٹیکل لمٹ سے کم مقدار میں ایٹم بنانے میں آج تک ناکام رہے ہیں۔2009 میں پرویز مشرف نے امریکی عہدیداروں کے اجلاس میں شرکت کے وقت انکشاف کیا کہ پاکستان کریٹیکل لمٹ سے کم مقدار میں تابکاری مواد کو استعمال کرتے ہوئے ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ پرویز مشرف کے اس بیان نے اجلاس میں موجود عہدیداروں کے نہ صرف پسینے چھڑا دئیے بلکہ امریکیوں کو بہت سخت حیرت اور پریشانی سے دوچار کر دیا۔ ماہرین کے مطابق پرویز مشرف کا امریکیوں کے سامنے یہ انکشاف دشمن کو پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے ہزاروں بار سوچنے پر مجبور کرے گا۔اسکا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان نے دُنیا کا سب سے چھوٹا اور ایسا خطرناک ترین ہتھیار بنا لیا ہے جسے باآسانی دُنیا کے کسی بھی ملک میں نہ صرف باآسانی پہنچایا جا سکتا ہے بلکہ دشمن کو غیر معمولی اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ مغربی ممالک جیمز بانڈ کی فلموں میں ایسے ہتھیار فرضی طور پر دکھا تو چکے ہیں لیکن پاکستان کے علاوہ دُنیا کے کا کوئی بھی ملک اس سائنس فکشن کو حقیقت میں تبدیل نہیں کر سکا۔
ایٹم بم کی تیاری مختلف مراحل میں ہوتی ہے اور اُن تمام مراحل کو عبور کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ دُنیا چند ہی ممالک ہیں جو اس مشکل ترین کام کو سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں پاکستان سرِ فہرست ہے۔ایٹم بم یورینیم اور پلوٹونیم جیسے تابکاری مواد سے بنتے ہیں جن کو دھماکہ خیز بنانے کے لئے افزودہ کیا جاتا ہے۔ افزودگی کا یہ عمل دُنیا کی تمام تر ٹیکنالوجیز میں سب سے منفرد اور مشکل ترین کام ہے اور یہ مشکل ترین کام اپنی مثال آپ ہے۔ایٹم بم کے لئے ایک مخصوص مقدار میں یورینیم چاہئے ہوتا ہے (اس مقدار کو کریٹیکل لِمٹ کہتے ہیں) تاکہ اس میں دھماکہ کرنے کا عمل شروع ہو سکےاس مخصوص مقدار سے کم یورینم ہونے پر اس میں دھماکہ کرنے کا عمل ہرگز شروع نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایٹم بم سائز میں ہمیشہ کافی بڑے ہوتے ہیں اور ان کو داغنے کے لئے طاقت ور اور جدید مزائل استعمال کیے جاتے ہیں یا پھر انہیں بہت بڑے اور مخصوص قسم کے فوجی طیاروں کی مدد سے گرایا جا سکتا ہے۔ روس اور امریکہ سمیت دُنیا کے تمام ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود کریٹیکل لمٹ سے کم مقدار میں ایٹم بنانے میں آج تک ناکام رہے ہیں۔2009 میں پرویز مشرف نے امریکی عہدیداروں کے اجلاس میں شرکت کے وقت انکشاف کیا کہ پاکستان کریٹیکل لمٹ سے کم مقدار میں تابکاری مواد کو استعمال کرتے ہوئے ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ پرویز مشرف کے اس بیان نے اجلاس میں موجود عہدیداروں کے نہ صرف پسینے چھڑا دئیے بلکہ امریکیوں کو بہت سخت حیرت اور پریشانی سے دوچار کر دیا۔ ماہرین کے مطابق پرویز مشرف کا امریکیوں کے سامنے یہ انکشاف دشمن کو پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے ہزاروں بار سوچنے پر مجبور کرے گا۔اسکا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان نے دُنیا کا سب سے چھوٹا اور ایسا خطرناک ترین ہتھیار بنا لیا ہے جسے باآسانی دُنیا کے کسی بھی ملک میں نہ صرف باآسانی پہنچایا جا سکتا ہے بلکہ دشمن کو غیر معمولی اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ مغربی ممالک جیمز بانڈ کی فلموں میں ایسے ہتھیار فرضی طور پر دکھا تو چکے ہیں لیکن پاکستان کے علاوہ دُنیا کے کا کوئی بھی ملک اس سائنس فکشن کو حقیقت میں تبدیل نہیں کر سکا۔

About fatima

Check Also

بحریہ ٹاؤن کا مالک “ملک ریاض” راؤ انوار کو کیوں بچانا چاہتا ہے ……؟

راؤ انوار کی ملک سے فرار کی کوشش ناکام ہونے کے بعد اس نے پراپرٹی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *