Home / World / دنیائے جنگ کے 5 مہنگے تیرین جنگی ہتھیار

دنیائے جنگ کے 5 مہنگے تیرین جنگی ہتھیار

دنیائے جنگ کے 5 مہنگے تیرین جنگی ہتھیار
کسی بھی ملک کی افوج کے لئے ہتھیار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور ان کو بنانے کے لئے بہت سے سرمائے کے ساتھ ساتھ انتہا درجہ کی مہارت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ آج ہم آپ کو دنیائے جنگ کے 5 مہنگے ترین جنگی ہتھیاروں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کریں گے۔

پی-8اے پوسیڈن

حیران کردینے والی لاگت کے ساتھ یہ طیارہ نگرانی کی سہولت کے ساتھ ساتھ بہت سارے ہتھیاروں سے لیس ہےاسی وجہ سے اس میں جدید ترین سینسرز لگائیں گئے ہیں۔ یہ طیارہ میزائل ،ٹارپیڈوز اورمائنز جیسے خطرناک ہتھیاروں سے لیس ہےاور ساتھ ہی ساتھ یہ اپنے پروں کو موجود وزن کے حساب سے حرکت دے کر خود کو سنبھالے رکھتا ہے۔ اس کی کل لاگت 33 ارب امریکی ڈالر ہے۔

کلاس ائیرکرافٹ کیرئیر سی وی این-78


سی سپیرو میزائل سے لیس یہ بہری بیڑا اپنے اندر 75 جنگی ہوائی جہاز کو سمو سکتا ہے۔ اس کا کل رقبہ 4.5 اکیڑ پر محیط ہونے کے ساتھ 9.8 ارب امریکی ڈالرکی لاگت میں پایا تکمیل کو پہنچنے والا دنیا کا مہنگہ ترین بہری بیڑا ہے۔ یہ بحری بیڑا ایک لاکھ ٹن سے زیادہ وزن ناصرف برداشت کر سکتا ہے بلکہ اسکی ترسیل بھی با آسانی کر سکتا ہے۔

جوائنٹ مائن ریسسٹینٹ ایمبش پروٹیکٹد وہیکل


اب بات کرتے ہیں جوائنٹ مائن ریسسٹینٹ ایمبش پروٹیکٹد وہیکل کی۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے یہ گاڑی اپنی بہترین ساخت، پائیدار اور مضبوط ہونے کی وجہ سے اپنے اندر بیٹھنے والے کو نہ صرف گولی کے وار سے محفوظ رکھتی بلکہ روڈ بم دھماکہ بھی اس کے آگے بے بس نظر آتا ہے۔ یہ 41.6 ارب ڈالر کی خطیر لاگت سے مکمل ہوئی اور اس نے اپنی قیمت کے مقابلے میں امریکی فوج کو عراق اور افغانستان جنگ میں کہیں بڑھ کر فائدہ پہنچایا۔
ٹرائیڈنٹ 2 میزائل


13000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے حدف کی طرف بڑھنے وال میزائل ٹرائیڈنٹ دوئم آبدوز سے چلانے کے لئے بنایا گیا ہے یہ تین مرحلوں میں سالڈ فیول استعمال کرتا ہےاوریہ اندرونی طور پر گائیڈڈ میزائل ہے جس کی رینج تقریباً 7,500میل ہے اور یہ کئی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل برطانوی اور امریکی بحری افواج کے استعمال میں ہے۔ یہ میزائل ایٹمی وارہیڈز سے لیس ہے اسی وجہ سے اس میزائل کو آج تک استعمال یا اسکا تجربہ نہیں کیاجا سکا۔ ایک بار اس کا روائتی ورژن تجویز کیا گیا تھا لیکن بہت سی تکنیکی مشکلات کی بنا پر اس پر عمل درآمد نہ کیا جا سکا۔ اس پر دونوں ملکوں کی جانب سے 53.2 ارب امریکی ڈالر خرچ کئے جا چکے ہیں۔ جبکہ اس پر کام ابھی بھی جاری ہے۔

وی-22 اوسپرے


57.8 ارب امریکی ڈالر کی لاگت سے پایا تکمل کو پہنچنے والاطیارہ اوسپرے وی-22 کی بنیادی پروفائل غلطی سے پاک ہے یہ ناصرف بہت ہی کم جگہ سے اڑ اور لینڈ کرسکتا ہے بلکہ افقی اور عمودی بھی اڑ سکتاہے اور اتر سکتا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس طیارے کو ہر طرح کے ماحول میں کارآمد بناتی ہیں جو کہ اسطرح کے طیارے کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ اوسپرے وی-22 ایک ہیلی کاپٹر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے فسکڈ پر ہونے کی وجہ سے ہوائی جہاز بھی ہے۔

About fatima

Check Also

ویلنٹائن ڈے: ’پابندی برقرار، میڈیا تشہیر سے باز رہے

ریگولیٹری اتھارٹی نے اپنے تحریری بیان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے کہا ہے کہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *