Home / Pakistan / آپریشن ردالفساد کتنا کامیاب رہا؟تفصیلات جانیئے

آپریشن ردالفساد کتنا کامیاب رہا؟تفصیلات جانیئے

پاکستان میں شدت پسند تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن ردالفساد کی وجہ سے ملک بھر میں عمومی طور پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں کافی حد تک کمی آئی ہے تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے بدستور حملوں کے زد میں ہیں جبکہ بیشتر کالعدم تنظیموں کی قیادت بھی تاحال محفوظ ہے۔

پشاور اور بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں سے ایک مرتبہ پھر یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ شاید عسکری تنظیمیں پھر سے اکھٹا ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

گذشتہ سال کے آخر میں فوج کے موجودہ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد آپریشن ضرب عضب کے تحت ملک بھر میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
اس آپریشن کے بڑے اہداف میں ملک کے مختلف علاقوں میں قائم شدت پسندوں کے ’سلپر سیلز‘ اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا تھا۔ اس آپریشن میں اب تک بیشتر کارروائیاں انٹلیجنس معلومات کے تحت کی گئی ہیں اور جس کا دائرہ فاٹا اور خیبر پختونخوا سے لے کر کراچی، بلوچستان اور پنجاب کے صوبوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ ’رد الفساد‘ کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا ہے اور یہ کہ اس آپریشن سے سرحد کی سکیورٹی بھی یقینی بنانا ہے۔

دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد کا کہنا ہے کہ ردالفساد کے تحت ہونے والی زیادہ تر کارروائیاں کامیاب رہی ہے لیکن جہاں تک دہشت گردی کے منبے اور جڑ کا تعلق ہے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جس سے اس آپریشن کو مکمل طور پر کامیاب قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب تک ہم افغانستان کے ساتھ ایک نئی اور مثبت سوچ کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے اس وقت تک دہشت گردی کا معاملہ مکمل طور پر حل نہیں ہوسکتا
۔‘

About fatima

Check Also

مسلح افواج کی قربانیوں کی بدولت ملک میں امن لوٹا

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کی قربانیوں کی بدولت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *